Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

فارغین مدارس اور یونیورسٹی

(مفتی) محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ اکرام نگر موانہ ضلع میرٹھ یوپی الہند

بہت سے طلباء مدارس سے فارغ ہوکر یونیورسٹی میں اس نیت سے داخل ہوتے ہیں
کہ علوم عصریہ حاصل کرکے زیادہ اچھے طریقے سے دین کی تبلیغ کرسکیں گے،
بہت اچھی نیت اور فیصلہ ہے
لیکن افسوس ہوتا ہے اسوقت جب یہ فارغین مدارس یونیورسٹی کے ماحول سے مرعوب ہوکر اپنی شناخت ہی کھوبیٹھتے ہیں،
جو داعی بننے چلے تھے مدعو بن جاتے ہیں،
سب سے پہلی انکی ٹوپی سر سے غائب ہوتی ہے
اور انکے پاس بہانہ اچھا ہوتا ہے کہ اسلام ٹوپی میں تھوڑی نا ہے!
پھر پائجامہ غائب ہوتا ہے اسوقت بھی یہی بہانہ ہوتا ہے کہ اسلام پائجامے میں تھوڑی نا ہے !
پھر آہستہ آہستہ داڑھی کی زکوة نکلنے لگتی ہے اور زکوة نکلتے نکلتے رأس المال ہی ختم ہوجاتا ہے اور پھر چہرہ فٹبال کا میدان بنجاتا ہے صاف نہ سہی تو گھاس نما ہلکی ہلکی داڑھی نظر آتی ہے اور انکا اسلام اور نبی کی سنتوں سے محبت ابھی بھی جوں کے توں برقرار رہتے ہیں،
پھر یہ ان علماء پر اعتراض کرتے ہیں جو اکابر کے طریق اور سنت رسول کو تھامے ہوتے ہیں کہ ان مولویوں نے ہی اسلام کو جکڑ رکھا ہے انہوں نے اسلام کو بڑا تنگ کردیا اسلام کو داڑھی ٹوپی میں قید کردیا ہے
اور پھر ہوتے ہوتے بہت سے حضرات بالکل اسلام بیزار نظر آنے لگتے ہیں اور ماڈرن اسلام کے داعی نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ داعی نہیں کسی اور کے مدعو بن چکے ہوتے ہیں
یہ وہ حضرات ہوتے ہیں جنکا اصلاحی تعلق کسی اللہ والے سے قائم نہیں ہوتا،
ورنہ تو یہ حضرات ہر ایک سنت چاہے بظاہر وہ چھوٹی نظر آئے اسکو نہ چھوڑتے اور جو ان پر اعتراض کرتا تو جواب دیتے
“ أأترک سنة حبیبی لھٰؤلاء الحمقاء” کیا میں ان بیوقوفوں کی وجہ سے اپنے محبوب نبی کی سنت کو چھوڑدوں؟

وماعلینا الا البلاغ

No Comments

Leave a Reply