Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • فتاوی و احکام
  • محرم، ربیع الاول، شب برات کی بدعات اور شادی بیاہوں کی رسومات اور علماء کی شمولیت

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • فتاوی و احکام
  • محرم، ربیع الاول، شب برات کی بدعات اور شادی بیاہوں کی رسومات اور علماء کی شمولیت

محرم، ربیع الاول، شب برات کی بدعات اور شادی بیاہوں کی رسومات اور علماء کی شمولیت

محرم ربیع الاول شب برات کے جلسوں کی بدعات نیز شادی بیاہوں کی رسومات

چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا باشد مسلمانی؟

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند 

امت کے اندر پھیلتی بدعتیں اور رسومات دیکھکر کلیجہ منہ کو آتا ہے دل خون کے آنسو روتا ہے، ہر شخص اپنے طریقے کو درست بتا کر مختلف تاویلات کرکے اپنے دل کو تسلی دے لیتا ہے، کوئی وقت کا تقاضہ کہکر بدعتوں اور رسومات کی تائید خاموشی یا عملی کررہا ہے، کوئی صلح کل بنا ہوا واہ واہی بٹورنے کیلئے اور ہر دل عزیز بنے رہنے کی تڑپ میں دین کی تصویر مسخ کرنے کا سبب بنا ہوا ہے، اللہ اللہ عوام کی نادانی جہالت اور کم فہمی پر افسوس کروں یا خواص اور علماء کہلائے جانیوالے حضرات کی ہر دل عزیزی کی تڑپ پر ماتم کروں؟ جو پانی کے دھارے کے ساتھ ساتھ بہے جارہے ہیں خود بھی ڈوب رہے ہیں اور عوام کو ڈبانے کا سبب بھی بن رہے ہیں،
سچ کہتا ہوں اگر علماء اور مساجد کے ائمہ ان باتوں پر عمل کرنے لگ جائیں جسکو وہ چلا چلا کر اپنی تقاریر میں بیان کرتے ہیں یا انہوں نے کتابوں میں پڑھا ہے یا اگر پڑھا نہیں ہے تو پڑھ کر ان پر عمل کریں اور لوگوں کو بتائیں سمجھائیں تو پورا معاشرہ سدھر سکتا ہے، لیکن کیا کیا جائے کہ ائمہ اور بہت سے علماء ہی جنکو اللہ نے مقتدا بنایا تھا وہ عوام کے مقلد اور مقتدی بنے ہوئے ہیں،
علماء دیوبند کا فتوی ہے کہ ۱۲ ربیع الاول کو میلادالنبی منانا بدعت ہے ۱۰ محرم کو یا پندرہ شعبان کو کوئی خاص پروگرام کرنا اسکو حد سے زیادہ اہمیت دینا بدعت ہے، لیکن اب دیوبند مظاہر علوم اور دیگر اہلسنت والجماعت کے مدارس سے فارغ شدہ حضرات خود اس بیماری میں مبتلا نظر آرہے ہیں، جہاں ربیع الاول شروع ہوا تو سیرت النبی کے عنوان سے مضامین کا شیوع پروگراموں کا انعقاد عام ہوجاتا ہے اور اگر انکو منع کیا جائے کہ خاص اس ماہ میں سیرت کے تذکرے کا ثبوت نہیں ہے تو وہی جواب دیتے ہیں جو اہل بدعت دیتے ہیں کہتے ہیں کہ تذکرہ رسول میں کیا برائی ہے؟ کیا سیرت رسول کو عام کرنا بدعت ہے؟
ان سے کوئی پوچھے کہ اس ماہ میں ہی اسکا اہتمام کیوں؟ کیا نبی سے اور صحابہ سے اسکا ثبوت ہے؟ کیا انکے زمانہ میں ماہ ربیع الاول نہیں آتا تھا؟ کیا انکو اس ثواب کے کام کا علم نہیں تھا؟ یہی حال محرم اور شعبان کا ہے ان مواقع پر وہ تمام کام اب اہلسنت کرنے لگے جو دوسرے فرقوں کے لوگ کرتے تھے، بس فرق اتنا ہے کہ اپنے پروگراموں کی تاریخ آگے پیچھے کرلیجاتی ہے اور نام الگ رکھدیاجاتا ہے مثلاربیع الاول میں
“جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم”
محرم میں “تذکرہ شہادت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ”
شعبان میں “اصلاحی مجلس/اصلاح معاشرہ)
یاد رکھئے نام بدل دینے سے اور تاریخ بدل دینے سے حقیقت نہیں بدل جاتی، یہودی لوگوں کیلئے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار منع تھا لیکن وہ تاریخ اور دن بدل دیتے تھے اسطرح سے کہ جمعہ کے دن جاکر سمندر سے ایک لمبی نالی کھود دیتے اور اسکے سرے پر گڑھا کھود دیتے، ہفتہ کے دن مچھلیاں اسمیں گرجاتیں اور اتوار کے دن جاکر انکو پکڑلیتے تو بظاہر وہ ہفتہ کے دن شکار نہیں کرتے تھے لیکن حیلہ کرتے تھے، تو اللہ نے ضربت علیھم الذلة والمسکنة کا طوق گلے میں ڈال دیا، یہی حال آج ہم علماء کا ہے مختلف حیلے بہانوں سے بدعتوں کے رواج میں معاون بنے ہوئے ہیں بلکہ خود عملی طور پر شریک بھی ہوتے ہیں،
مسلمانوں کی ذلت کی جہاں بہت ساری وجوہات ہیں ان ہی میں سے یہ وجوہات بھی ہیں کہ اکثر مولوی حضرات نے اصلاح کا کام عملا چھوڑدیا ہے صرف بیان بازی تک محدود ہے، اور خود عوام کی جی حضوری میں لگ گئے،
بدعتیں آہستہ آہستہ ہی جڑ پکڑتی ہیں، پہلے بھی شروع میں ۱۲ ربیع الاول کو تذکرہ رسول کے عنوان سے ہی کوئی پروگرام ہوا ہوگا پھر بعد میں اس نے ایک تہوار کی شکل لے لی، اسیطرح آگے چل کر اگر یہی حالت رہی تو ۱۲ ربیع الاول کے مہینے میں ذکر رسول کے تذکرے کا انعقاد ضروری سمجھ لیا جائیگا چاہے وہ ۱۲ ربیع الاول کو ہو یا اس سے آگے پیچھے ہو،

یہی حال شب برات کا ہے شب برات پر جلسے جلوس کا انعقاد اس رات کا ایسا اہتمام جیسا نبی اور صحابہ سے ثابت نہیں یہ بدعت ہے، علماء حضرات کو چاہئے اسطرح کے پروگراموں میں نہ جائیں لوگوں کو سمجھائیں دین کے نام پر گمراہی نہ پھیلنے دیں، اسی طرح محرم میں تذکرہ حسین کے نام سے جا کسی اور نام سے صرف محرم کی وجہ سے جلسے کرنا برسی منانے کی مانند ہے ناجائز ہے حرام ہے بدعت ہے ان سب سے بچنے اور بچانے کی ضرورت ہے، جو باتیں پہلے بریلویوں میں تھی وہ سب رفتہ رفتہ اب دیوبندیوں بلکہ دیوبندی مولویوں میں داخل ہوچکیں اسطرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ قیامت کے دن عوام سے پہلے علماء کی گردنیں نپیں گی، اسلئے کہ یہ علم کے ہوتے ہوئے راہ راست سے ہٹے، اور دوسروں کے گنراہ ہونے کا سبب بنے، ولاتلبسوا الحق بالباطل حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، حق کو کھول کھول کر بیان کرو فلاتخشوالناس واخشونی لوگوں سے نہ ڈرو اللہ سے ڈرو

اسلئے تمام علماء سے اور ائمہ سے اپیل ہے کہ تمام رسومات وبدعات کی کھل کر مخالفت کریں کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں کسی مخلوق کی رضا کی فکر نہ کریں اللہ کی رضا کیلئے کام کریں حدیث پاک میں آتا کے جب اللہ راضی ہوتا ہے تو مخلوق کے دل میں اسکی محبت ڈال دیتا کے اور جب ناراض ہوتا ہے تو مخلوق کے دل میں اسکی نفرت ڈال دیتا ہے اسلئے اس رب کو راضی کرنے کی فکر رہے جسکے قبضے میں لوگوں کے قلوب ہیں جب چاہے انکو پلٹ دے،
معاشرے سے رسومات کے ختم نہ ہونیکا ایک سب سے بڑا سبب علما اور ائمہ بنے ہوئے ہیں، کہ وہ نہ تو خود عمل کرتے نہ دوسروں کو ترغیب دیتے بس تقریر میں کہدینگے کہ شادی بیاہ میں زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہئے کھانا سنت کے مطابق بیٹھا کر کھلانا چاہئے شادی کی تمام رسمیں غیر اسلامی ہیں انکو نہیں کرنا چاہئے مثلا ہلدی لگوائی، لال خط لکھنا لکھوانا پڑھنا پڑھوانا، بھات کی رسم وغیرہ سب ناجائز ہیں لیکن خود انمیں شریک ہوتے ہیں تو بتائیے عوام کی کیسے اصلاح ہوگی؟ ایک امام اگر کسی کام سے روکتا کے تو دوسرا چند ٹکوں کی خاطر اور صلح کل بننے کے چکر میں فورا وہی کام کرنے کو تیار ہوجاتا ہے، میرا خود کا معمول کے کہ اپنی مسجد میں کہہ رکھا ہے کہ جس شادی کے اندر غیرشرعی عمل ہوگا کھڑے ہوکر کھانا ہوگا یا بینڈباجہ یا مردو عورت کا مخلوط نظم طعام ہوگا تو ایسی محفل میں نہ میں جاؤنگا نہ نکاح پڑھاؤنگا، لیکن ہوتا یہ ہے کہ بعض لمبی ناک والے والے حضرات کو اپنی تمام رسومات کرنی ہوتی ہین تو وہ دوسری مسجد سے امام کو لے آتے ہیں دوسری مسجد کا امام فورا گردن جھکائے بغل میں نکاح کا رجسٹر دبائے چلا آتا ہے، اسٹینڈنگ میں کھانا چل رہا ہے کیا مجال ہے کہ حضرت والا اس غیرشرعی محفل سے انحراف کرجائین یا کم ازکم دوبول اصلاح کے کہدیں، اسی طرح لال خط کو منع کررکھا ہے کہ خط کا مقصد تاریخ بتانا ہے جو فون پر بھی بتائی جاسکتی ہے اور اگر زیادہ ہی اہتمام کرنا کے تو دونوں طرف کے لوگ بیٹھ کر زبانی تاریخ بتادیں یا کسی سادہ کاغذ پر خود ہی لکھ لیں، اسکے لئے دعوتوں کی اور امام کو بلانے کی کیا ضرورت ہے؟ شادی بیاہ کی ان بیجا رسومات کے خرچوں کی وجہ سے ہی بہت سی مسلمان لڑکیاں غیروں کے ساتھ بھاگ رہی ہیں جسکے ذمہ دار ماں باپ ہیں، اور ہمارا معاشرہ ہے،
بہر حال میں لال خط نہ لکھتا ہوں نہ پڑھتا ہوں ، لیکن دوسری مسجد کے امام صاحب یا کوئی اور حافظ قاری مولوی صاحب فورا چلے آتے ہیں بھلا بتائیے کیا اسطرح خود عملا رسومات کرکے ہم رسومات کو ختم کرسکتے ہیں؟
یہ علماء کی شان نہیں ہے کہ وہ عوام کے پیچھے چلیں بلکہ علماء کو تو چاہئے کہ عوام کو نرمی سے سمجھائیں اگر نہ مانیں تو خود ان بدعات ورسومات سے الگ رہیں اور انکو انکے حال پر چھوڑ دیں، دین اسلام نے بدعت ورسومات کے شائبہ تک سے روکا ہے اسلام میں مکمل داخل ہونیکی تعلیم دی ہے ایسا نہیں کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر،
“حج کعبہ بھی کیا اور گنگا کا اشنان بھی
راضی رہے رحمن بھی اور خوش رہے شیطان بھی”
کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے قرآن وسنت کی کسوٹی پر اسکو پرکھ لینا چاہئے اسکے مطابق عمل کرنا چاہئے بڑا آسان حل ہے، اللہ کے مقابلہ میں کسی مخلوق کی رضا کی کوشش کبھی نہیں کرنی چاہئے ہاں اس شخص کو ضرور راضی رکھنا چاہئے جو قبر میں آپکے ساتھ جائے وہاں آپکے جوابات دے سکے، حشر کے میدان میں آپکے تمام گناہ اپنے سر لے سکے اور آپکو اللہ کی پکڑ سے بچا سکے

۱۲ ربیع الاول کی بدعات دلائل عقلیہ ونقلیہ کی روشنی میں 👇🏻👇🏻
https://youtu.be/PppCwjqIcT4

No Comments

Leave a Reply