Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

علماء کا مذاق اڑانا انکی توہین واستخفاف اور غلط بات منسوب کرنا

بقلم محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند

کل سے ایک مذاق چل رہے ہے فیسبک پر،
چند فوٹوز ہیں جو کتاب کے ٹائٹل لگتے ہیں اگرچہ نقلی ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہیکہ ایڈیٹنگ کرنیوالے کی ذہنیت کتنی خراب ہے؟
علماء کا اسکے نزدیک کیا مقام ہے؟
اور انکو شیئر کرنیوالے بھی اسی زمرے میں آتے ہیں، اس مذاق کے اندر چند بڑی خرابیاں ہیں جو آخرت کو برباد کرنیوالی ہیں
(۱) مسلمان کی عزت سے کھلواڑ
(۲) تہمت وبہتان بازی
(۳) اللہ کے ولی سے بغض رکھنا
(۴ ) مسلمان کا مذاق اڑانا
اور جو لوگ یہ پوسٹس شیئر کررہے ہیں مزے کیلیے وہ بھی چند برائیوں میں مبتلا ہورے ہیں انکا بیان آگے آرہا ہے ،
یہ ٹائٹل کچھ اسطرح کے ہیں۔
(۱) حیات سیدنا مودی ، دور خلافت ۲۰۱۴ تاحال ، مؤلف مولانا محمود مدنی صدر جمعیت علماء ہند
(۲) حیات سیدنا یزید آغاز ۲۲ رجب خلافت ۶۰ھ وفات ۱۴ ربیع الاول ۶۴ ھ، مؤلف : ابوالحسین عظیم الدین صدیقی فاضل جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی پاکستان
(۳) یوگی آدتیہ ناتھ مسیحائے مسلمان اترپردیش ، مؤلف: امیر شریعت مولانا سید سلمان حسینی ندوی
(۴) موہن بھاگوت ایک مصلح امت، مؤلف: مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیت علماء ہند
(۵) عہدوں پر قبضے کی ترکیبیں ، پسندفرمودہ: اکابر جمعیت اکابر ندوہ اکابر بورڈ، نتیجۂ فکر: مولانا فیصل ولی رحمانی
(۶) الامام جاوید احمد الغامدی خدماتہ فی اصول الفقہ والتصوف، مؤلف: عمران صدیقی الندوی،
اسطرح کی حرکت کرنیوالے چاہے مزاح میں کررہے ہوں لیکن ان میں سے سب نہ سہی بعض تو یقینا اللہ کے مقرب ہونگے ، یہ اللہ کے ولیوں کی توہین ہے انکا مذاق اڑانا انکا استخفاف وتحقیر ہے، اور اگر اللہ کے برگزیدہ نہ بھی ہوں تب بھی صاحب ایمان تو ہیں ہی اور کسی ایمان والے کی عزت سے کھلواڑ کرنا کہاں جائز ہے؟

(۱) مسلمان کی عزت سے کھلواڑ کرنا

“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3933]”

(۲) بہتان باندھنا

نیز یہ بہتان باندھنا ہے “بہتان کہا جاتا ہے جو عیب کسی شخص کے اندر نہ ہو اسکو اسکی طرف منسوب کرنا ،
“عن أبی ہریرة قال: قیل یا رسول اللہ !ماالغیبة؟قال:ذکرک أخاک بما یکرہ،قلت أفرأیت ان کان في أخی ما أقول؟قال:ان کان فیہ ماتقول فقد اغتبتہ وان لم یکن فیہ ماتقول فقد بہتہ․(أبوداؤ:۲/۲۶۸،کتاب الأدب ،باب فی الغیبة)
ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیااے اللہ کے رسول!غیبت کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمھارا اپنا بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو ،کہاگیا جو بات میں کہہ رہاہوں اگر وہ میرے بھائی میں ہو؟(تو وہ بھی غیبت کہلائے گی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر وہ بات اس میں موجود ہو اور تم کہوتب ہی تو غیبت ہے ،اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان لگایا”

بہتان سے متعلق قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں
“حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں بے گناہ مؤمنین اور بے گناہ مؤمنات کو زبانی ایذا دینے والوں یعنی ان پر بہتان باندھنے والوں کے عمل کو صریح گناہ قرار دیاہے۔

ایک حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: مسلمان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو۔ ایک اور حدیث میں ہے: جو شخص کسی دوسرے کو فسق کا طعنہ دے یا کافر کہے اور وہ کافر نہ ہو تو اس کا فسق اور کفر کہنے والے پر لوٹتا ہے۔

ایک روایت میں ہے: جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی (الزام لگایا ، تہمت ، یا جھوٹی بات منسوب کی) جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں ، تو اللہ اسے (الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے ، جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو) دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا (وہ آخرت میں اِسی کا مستحق رہے گا) یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے (دنیا میں) باز آ جائے (رک جائے ، توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے)۔
(مسند أحمد : 7/204 ، سنن أبي داود : 3597 ، ، تخريج مشكاة المصابيح : 3/436 ، ،3542 )

الغرض مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے اِس عمل سے باز آنا چاہیے اور جس پر تہمت لگائی ہے اس سے معافی مانگنی چاہیے؛ تاکہ آخرت میں گرفت نہ ہو۔

یہ فیسبکی لوگ کسی کے مقام ومرتبہ کو جانتے ہی نہیں، کس کو مذاق کا نشانہ بنانا ہے کس کو نہیں بس انکو دل لگی سے مطلب ہے ایسے لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا،

(۳) اللہ کے ولی سے دشمنی


حدیث قدسی ہے

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:”جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی مول لی اس کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے“

ایک جگہ آپ علیہ السلام کا ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے، ہمارے بچوں پر رحم نہ کرے، اور جو ہمارے عالِم کا حق نہ پہچانے وہ میری اُمت میں سے نہیں ہے۔ (صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب : 101)

ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : عالم بنو یا طالب علم بنو یا بات کو غور سے سننے والے بنو یا ان سے محبت کرنے والے بنو، پانچویں شخص نہ بننا ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہوجاؤ گے۔ (شعب الإيمان للبیھقی، 1709)

(۴) مسلمان کا مذاق اڑانا


ایک جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے
“یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(11)
ترجمہ: کنزالعرفان
اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں”

اور جو لوگ ان پوسٹس کو شیئر کررہے ہیں وہ بھی چند گناہوں میں مبتلا ہورہے ہیں
(۱) گناہ پر تعاون یعنی گناہ پر مدد کرنا
(۲) جن گناہوں میں پوسٹ کی ایڈیٹنگ کرنیوالا مبتلا ہوا ہے ان ہی میں شیئر کرنیوالوں کی شرکت
(۳) جھوٹ پھیلانا


۱۵ ذی الحجہ ۱۴۴۴ھ بروز منگل

No Comments

Leave a Reply