علماء اور دیگر شعبوں میں مقتدا کی حیثیت رکھنے والوں کو متنبہ کرنیوالی احادیث واقوال صالحین
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
حضرت عمر بن الخطاب نے زیاد رضی اللہ عنہ سے کہا
عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: «هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: «يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ، وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ»
حضرت زیاد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا کیا آپ جانتے ہے اسلام کن چیزوں سے تباہ ہوگا؟ میں نے کہا نہیں- انہوں نے کہا: اسلام تباہ ہوگا ،علماء کی غلطیوں سے ، الله کی کتاب کے بارے میں منافقین کی بحث و دلائل سے، اور گمراہ ائمہ کی رائے سے ۔
(مشكوةألمصابیح89/1حدیث:269، محض الثواب 2/717، الدارمی1/295، مسند الفاروق 2/536،)
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا
کیا ہو گا جب آپ پر ایسا زمانہ آئے کہ جب لوگ حق اور باطل ، مومن اور کافر، امین اور غدار ، جاہل اور عالم اور نہ ہی صحیح اور غلط میں تمیز کر سکینگے؟
(الإبانة الکبری 1:188)
عن ابی ذر قال
كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:
“لَغَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَى أُمَّتِي ” قَالَهَا ثَلَاثًا. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذَا الَّذِي غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: “أَئِمَّةً مُضِلِّينَ “
(مسند امام احمد 20335، 21334 اور 21335] ۔ شیخ شعيب ارناوط اسے صحیح لغیرہ کہا ہے،)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تھا اور میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
“مجھے میری امت کے لئے دجال سے بھی زیادہ خدشہ (ایک اور چیز کا) ہے”
آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا ۔ میں نے کہا ! اے اللہ کے رسول ﷺ ، وہ کیا چیز ہے جس کا آپ دجال کے علاوہ اپنی امت پر خوف کر تے ہیں ؟ تو فرمایا “گمراہ ائمہ”
ائمہ سے مراد ہر وہ شخص جسکو کسی بھی لائن میں مقتدا کی حیثیت حاصل ہو یا عوام انکو راہنما کے طور پر دیکھتی ہو،
جیسے سیاست میں نیتا وغیرہ
مذہبی اعتبار سے علماء حفاظ قراء
تبلیغی جماعت کے اعتبار سے انکے امیر اور پرانے ساتھی،
کیا آپنے کبھی سوچا ہے کہ وہ رسول ﷺ جو دن رات اپنی امّت کو دجال کے فتنے سے خبردار کرتے رہے ، وہ گمراہ ائمہ کے فتنے کے بارے میں زیادہ فکر مند کیوں تھے؟
اسلئے کہ مقتدا کے بگڑنے سے پوری امت یا جن لوگوں میں اسکا اثرورسوخ ہے وہ سب گمراہ ہونگے، اور ایک غیر مقتدا اور غیر قدآور شخص کے بگڑنے سے بگاڑ صرف اسکی ذات تک رہتا ہے،
عن ابن مسعود قال
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كيف أنتم إذا لبستكم فتنة يهرم فيها الكبير, ويربو فيها الصغير, ويتخذها الناس سنة, إذا ترك منها شيء” قيل: تركت السنة؟ قالوا: ومتى ذاك؟ قال: “إذا ذهبت علماؤكم, وكثرت قُراؤكم, وقَلَّت فقهاؤكم, وكَثُرت أمراؤكم, وقلَّتْ أمناؤكم, والتُمِسَتِ الدنيا بعمل الآخرة, وتُفُقهَ لغير الدين
” کیا حال ہوگا تمہارا جب تم کو فتنہ (آفت یعنی بدعت وگمراہی ) اسطرح گھیر لے گی کہ ایک جوان اسکے ساتھ (یعنی اس کو کرتے کرتے) بوڑھا ہوجائےگا، اور بچوں کی تربیت اسی پر ہوگی، اور لوگ اس کو بطور سنّت اختیار کرلیں گے- توجب کبھی بھی اس (بدعت وگمراہی ) کا کچھ حصہ لوگ چھوڑ دینگے، تو کہا جائے گا: ” کیا تم نے سنّت کو چھوڑ دیا؟ اصحابہ نے پوچھا: ” ایسا کب ہوگا؟” آپﷺ نے فرمایا: جب تمہارے علماء فوت ہو گئے ہونگے ، قرآت کرنے والے ( مراد ایسے قراء جو محض نام ونمود اور شہرت کیلئے قرآن کو سنوار سنوار کر پڑھتے ہوں اور قرآن انکے حکق سے نیچے نہ اترتا ہو یعنی عمل سے کورےہوں) کثرت میں ہونگے ، تمہارے فقہاء چند ایک ہونگے، تمہارے سردار کثرت میں ہونگے، ایسے لوگ کم ہونگے جن پر اعتبار کیا جا سکے، آخرت کے کام صرف لوگ دنیوی زندگی کے حصول کے لئے کرینگے، اور حصول علم کی وجہ دین کی بجاۓ کچھ اور ہوگا-“
[ دارمی (٦٤/١) نے اسے دو اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے ، پہلی سند صحیح جبکہ دوسری حسن ہے- اسے حاکم ( ٥١٤/4) اور دوسروں نی بھی روایت کیا ہے]
رسول الله ﷺ کے ہر قول میں لازماً کچھ سیکھنے کےلئے اور غور و فکر کرنے کے لئے ہوتا ہے ، یہ روایات بھی ہمیں دعوت غوروفکر دے رہی ہیں کہ اے جماعت علماء جنکو انبیاء کے وارثین کا مقام دیا گیا ہے کیا تم اپنے وارث کے فرائض کو ادا کررہے ہو؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ بڑا ہی معنی خیز بیان فرمایا “حصول علم کی وجہ دین کی بجائے کچھ اور ہوگا”
اس کچھ اور کی تفصیل میں اگر پوری کتاب بھی تصنیف کردیجائے تو بھی کم پڑ جائیگی، خلاصتا یہ سمجھ لیجئے دینی علم کو جس مقصد کیلئے حاصل کیا جاتا ہے (یعنی اللہ کی رضا کیلئے اپنی اصلاح کرنا اور پھر اس علم کی صحیح نہج پر تبلیغ ) اس مقصد کے علاوہ اگر کچھ اور نیت ہو وہ سب اس “کچھ اور” میں داخل ہے
مثلا طلب شہرت
طلب جاہ
طلب عزت
طلب مال
طلب منافع
طلب خود آرائی
طلب ہر دل عزیزی
وغیرہ
علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں
قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إنَّمَا تُنْقَضُ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً إذَا نَشَأَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْ لَمْ يَعْرِفْ الْجَاهِلِيَّةَ
مجمو’الالفتاوى 10/301، علامہ ابن القیم اسکو اپنی فوائد میں بھی اسے لائے ہیں)
بے شک اسلام کی بنیادیں ایک کے بعد ایک تباہ و برباد ہو جائینگی۔ اگر اس میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو نا واقف ہوں اس بات سے کہ جہالت کیا ہے ؟
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
قیامت کے دن تک ہر آنے والا دن گزرنے والے دن سے بد تر ہوگا – اس سے میری مراد دولت میں اضافہ یا بیکار معاملات نہیں ہیں- بلکہ میرا مطلب علم کی کمی ہے- جب علماء فوت ہو جائینگے اور لوگ برابر ہوجائینگے ، وہ نا برائی سے روکینگے اور نہ نیکی کی طرف بلائینگے اور یہی انکو تباہی کی طرف لے جاییگی –
[ سنن دارمی (١٩٤)؛ یعقوب بن سفیان نے المعرفه میں اسے روایت کیا ہے ؛ نسائی (٣٩٣/3)، الخطیب اسے فقیه والمتفقہ (٤٥٦/١) میں لائے ہیں؛ دیکھئے ؛ فتح الباری (٢٦/١٣)]
طلق ابن حبیب فرماتے ہیں
علم اور اہل علم کے لئے ان لوگوں سے زیادہ کوئی خطرناک نہیں جو ان کہ گروہ میں تو شامل ہو جاتے ہیں پر ان میں سے نہیں ہوتے- یہ جاہل ہوتے ہیں لیکن اپنے آپ کو اہل علم میں سے سمجھتے ہیں- یہ لوگ صرف خرابی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اصلاح کر رہے ہیں
( ابن ابی الدنیا، التوبہ مضمون 62 )
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے فرمایا
موجودہ وقت میں اس اُمت کو درپیش سب سے زیادہ خطرناک معاملہ ان جاہل مبلغین کا ہے جواپنے آپ کو اہل علم میں سے سمجھتے ہیں، اور لوگوں کو ( اپنےدین کی طرف) جہالت اور گمراہی کے ساتھ بلاتے ہیں-
اعانة المستفيد، 887/1
وماعلینا الاالبلاغ
No Comments