سنت کی پاسداری اور علماء کی ذمہ داری،
گناہوں سے اجتناب کرنیوالے حضرات کو فریب دیکر شادی بیاہوں میں چلنے والی حیلہ بازی
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in
اسلامی معاشرتی زندگی میں کھانے پینے کے آداب اور شادی بیاہ کی تقریبات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، کیونکہ ان کا تعلق براہِ راست سنت نبوی ﷺ اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ زندگی کے ہر پہلو میں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، اور ہمیں ہر لمحہ یہی دیکھنا چاہیے کہ ہمارا طرزِ عمل اسوۂ حسنہ کے مطابق ہے یا نہیں۔
آج کل معاشرے میں کئی غیر اسلامی اور غیر شرعی رسومات عام ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک بڑی خرابی کھڑے ہو کر کھانے کا رواج ہے۔ اسی طرح شادی بیاہ میں بینڈ باجے، فضول رسم و رواج، اسراف، اور نمود و نمائش جیسے غیر شرعی امور بھی شامل ہو چکے ہیں۔ علماء اور دینی طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان امور کی اصلاح کریں اور خود بھی ایسی محافل میں شرکت سے اجتناب کریں جہاں اسلامی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہو۔
کھانے کے آداب: اسلامی تعلیمات اور معاشرتی حیلے
رسول اللہ ﷺ کا معمول ہمیشہ بیٹھ کر کھانے کا تھا، اور آپ ﷺ نے ہمیں بھی یہی تعلیم دی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
“ما أكل النبي صلى الله عليه وسلم على خوان قط، ولا في سُكرُجَة، ولا خبز له مُرَقَّقٌ.”
(بخاری: 5415)
ترجمہ: “نبی کریم ﷺ نے کبھی کسی بلند دسترخوان پر کھانا نہیں کھایا، نہ کسی سینی میں کھایا، اور نہ ہی آپ کے لیے نرم و نازک روٹی پکائی گئی۔”
اسی طرح کھڑے ہو کر پانی پینے سے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“نَهَى النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا”
(مسلم: 2024)
ترجمہ: “نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔”
یہ احادیث اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ نبی کریم ﷺ کھانے پینے میں وقار اور ترتیب کو پسند فرماتے تھے۔ لیکن آج کچھ لوگ جدیدیت کے نام پر یا سہولت کا بہانہ بنا کر کھڑے ہو کر کھانے کو عام کر رہے ہیں، جو سنت کے خلاف ہے۔
بعض لوگ یہ چالاکی کرتے ہیں کہ جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ علماء اور دینی مزاج رکھنے والے افراد کھڑے ہو کر کھانے کو ناپسند کرتے ہیں، تو وہ ان کے لیے الگ دن یا علیحدہ نشست کا اہتمام کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ مخصوص افراد کے لیے چند کرسیاں لگا دیتے ہیں، تاکہ علماء بیٹھ کر کھا لیں اور باقی لوگ کھڑے ہو کر کھائیں۔ یہ ایک طرح کا فریب ہے، جو معاشرتی حیلہ بن چکا ہے۔ ایسے موقع پر علماء کو چاہیے کہ وہ ان دعوتوں میں شرکت نہ کریں تاکہ ان کے عمل سے کسی برائی کو جواز نہ ملے۔
شادی بیاہ کی تقریبات اور علماء کی ذمہ داری
اسی طرح شادی بیاہ کی تقریبات میں کئی غیر شرعی رسومات شامل ہو چکی ہیں، جن میں بینڈ باجے، منڈھا بٹھانا، مہندی کی غیر شرعی محافل، بے پردگی، اور اسراف شامل ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
“وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ”
(الإسراء: 26-27)
ترجمہ: “اور فضول خرچی نہ کرو، کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔”
علماء کو چاہیے کہ وہ ایسے نکاح پڑھانے سے انکار کر دیں، جہاں دین کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔ اگر علماء نے ان تقریبات میں شرکت کی یا نکاح پڑھایا، تو عوام یہی سمجھیں گے کہ ان رسومات میں کوئی خرابی نہیں، اور یوں یہ غیر شرعی امور مزید مضبوط ہوتے چلے جائیں گے۔
علماء کی بات اور عمل میں تضاد کا نقصان
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض علماء منبروں پر اصلاحِ معاشرہ اور غیر شرعی امور کے خلاف وعظ کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر وہ انہی محافل میں شریک بھی ہوتے ہیں۔ جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ علماء کی بات اور عمل میں تضاد ہے، تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا، بلکہ وہ ان کی موجودگی کو اپنے غلط اعمال کے لیے سندِ جواز بنا لیتے ہیں۔
حدیث شریف میں آتا ہے:
“لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ”
(بخاری: 15)
ترجمہ: “تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان نبی کریم ﷺ کی سنت پر سختی سے عمل کرے اور ہر اس چیز سے دور رہے جو آپ ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہو، چاہے وہ معاشرتی دباؤ ہی کیوں نہ ہو۔
یہود کی نافرمان قوم اور علماء کا انجام
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک بستی کا تذکرہ فرمایا، جنہیں ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے سے منع کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے ایک چالاکی یہ کی کہ جمعہ کے دن جال لگا دیتے اور اتوار کو مچھلیاں پکڑ لیتے۔ یہ ایک واضح دھوکہ تھا، اور اس کے نتیجے میں اللہ نے انہیں بندر بنا دیا۔
اسی طرح اس بستی کے علماء، جو خود تو گناہ نہیں کرتے تھے، لیکن گناہ گاروں کو سختی سے نہیں روکتے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ نے سور بنا دیا۔
یہ ایک بہت بڑا سبق ہے کہ اگر علماء صرف نصیحت کرنے پر اکتفا کریں، لیکن برائی سے بے زاری کا اظہار نہ کریں، اور عملی طور پر بھی برائی سے نہ بچیں، تو ان کا انجام بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
دین کی غیرت اور نبی ﷺ کی محبت کا تقاضا
سچی غیرتِ ایمانی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر اس تقریب یا اجتماع سے دور رہا جائے جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی ہو رہی ہو۔ علماء کو چاہیے کہ وہ برائی کے خلاف صرف تقریر ہی نہ کریں، بلکہ اپنے عمل سے بھی مثال قائم کریں۔
اگر ہم نے بدعات کو روکنے کے بجائے ان پر خاموشی اختیار کر لی یا ان میں شرکت کرنے لگے، تو آنے والی نسلیں سنت سے غافل ہو جائیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے پروگراموں میں شرکت سے مکمل اجتناب کیا جائے، چاہے اس میں کتنے ہی سماجی خاندانی اور چاہے جیسے تعلقات متاثر ہوتے ہوں اسلئے کہ نبی کی محبت سے بڑھ کر کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہی دین کی غیرت اور نبی کریم ﷺ کی محبت کا حقیقی تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں دین پر مضبوطی سے عمل کرنے، برائی کو روکنے، اور سنت نبوی ﷺ کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
No Comments