حکومت کے دس لاکھ روپیوں کو ٹھکرایا
مولانا سعیداللہ مظاہری دامت برکاتہم نے
واقعہ ہے ۱۹ فروری ۲۰۲۰ کا
“نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں”
واقعہ ہے اترپردیش کے ضلع میرٹھ کے قصبہ موانہ کا، قصبہ موانہ میں معہدالشریعة الاسلامیہ کے مہتمم اورحضرت مولانا محمدسمیع اللہ رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا محمدسعیداللہ مظاہری دامت برکاتہم کا، واقعہ اسطرح ہے کہ ایک ہفتہ قبل حضرت کے مدرسہ میں بی جے پی کے چند مسلمان کارکنان آئے جنمیں ایک عورت بھی تھی اور آکر کہنے لگے کہ حضرت ہم سرکار کیطرف سے آئے ہیں اور سرکار ہر پرائیوٹ رجسٹرڈ مدرسے کو دس لاکھ روپئے دے رہی ہے، آپکے مدرسے کو بھی دس لاکھ دئیے جائینگے، حضرت نے فرمایا کہ بھئی سب سے پہلی بات تو یہ ہیکہ ہمارا مدرسہ اور اکثر مدارس دارالعلوم دیوبند سے مربوط ہیں اور دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے چند اصول مقرر فرمائے جنمیں سے ایک یہ ہے کہ سرکاری امداد بالکل نہ لیجائے، نیز موجودہ حکومت ظلم پر اتر آئی ہے اور ظالم کا ہم احسان نہیں لینا چاہتے، نیز جب سرکار امداد کریگی تو اپنی مرضی بھی چلائیگی جیسا کہ آسام کے وہ مدارس بند کئے جارہے ہیں جنکو سرکاری امداد ملتی تھی، ہمارے یہ مدارس مسلمانوں کے باہمی تعاون سے چلتے ہیں، ہمیں ہمارے حال پر چھوڑئیے، اگر آپکو مسلمانوں کی اتنی فکر ہے مسلمانوں کیلئے روزگار کے مواقع دیجئے، نئے نئے قوانین لاکر مسلمانوں اور دیگر ملک کے باشندوں کو پریشان مت کیجئے، جو عورتیں دو ماہ سے ظلم کے خلاف اپنے گھروں سے باہر روڈ پر بیٹھی ہوئی ہیں انکی پریشانی دور کیجئے، سرکاری امداد کی ہمیں قطعا ضرورت نہیں ہے ،اور ہمارا یہ پیغام اپنے حکام تک پہنچادیجئے،
یہ الگ بات کہ__خاموش کھڑے رہتے ہیں
پھر بھی جو لوگ بڑے ہیں وہ بڑے رہتے ہیں
ایسے درویشوں سے ملتا ہے ہمارا شجرہ
جن کے قدموں میں کئی تاج پڑے رہتے ہیں۔۔
وہ بیچارے لوگ ایسے خود دار اور مستغنی شخص کا جواب سنکر اپنا سامنہ لیکر اٹھ آئے،
“مجھے اب دیکھتی ہے زندگی یوں بے نیازانہ
کہ جیسے پوچھتی ہو کون ہو تم جستجو کیا ہے ؟“
No Comments