تاریخ واقعۂ معراج: تحقیقی جائزہ، ستائیس رجب میں کیجانیوالی بدعات
(مفتی ) محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in
مقدمہ
واقعۂ معراج نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک بے مثال اور عظیم معجزہ ہے، جو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بے پایاں مظاہر دکھانے کے لیے پیش آیا۔ یہ واقعہ ایمان کی آزمائش، نبوت کی تصدیق، اور اللہ تعالیٰ کی خاص نشانیوں میں سے ایک ہے۔
اس تحقیق میں ہم واقعۂ معراج کی صرف تاریخ کو ذکر کرینگے اور راجح قول کی تعیین کرینگے ، قطع نظر اس سے کہ سفر معراج میں کیا کچھ پیش آیا؟ نیز ستائیس رجب سے متعلق مشہور عمل سے متعلق شرعی حکم بیان کرینگے ،
معراج کی لغوی و اصطلاحی تعریف
عربی میں “معراج” (المعراج) کا مطلب ہے “سیڑھی” یا “چڑھنے کا ذریعہ”۔
اصطلاحی طور پر، معراج اس پورے سفر کو کہتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں تک کیا۔
ایک ہے اسراء، اسراء کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کے سفر کو
قرآن میں واقعۂ معراج
واقعۂ معراج کو دو مقامات پر ذکر کیا گیا ہے:
1. سورۃ الإسراء میں “اسراء” (زمینی سفر) کا ذکر:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(سورۃ الإسراء: 1)
ترجمہ:
“پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی، جس کے گرد ہم نے برکت رکھی، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔”
2. سورۃ النجم میں “معراج” (آسمانی سفر) کا ذکر:
وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ۔ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ۔ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ۔
(سورۃ النجم: 13-15)
ترجمہ:
“اور بے شک نبی نے (جبرئیل کو) ایک اور مرتبہ بھی دیکھا۔ سدرة المنتہیٰ کے پاس، جہاں جنت المأویٰ ہے۔”
معراج کی تاریخ اور وقت
واقعۂ معراج کس سال اور کس مہینے میں ہوا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں:
اس واقعہ کی تاریخ اور سال کے متعلق ‘ مؤرخین اور اہل سیر کی آراء مختلف ہیں،بعض نے ربیع الاول، بعض نے ربیع الآخر، بعض نے رجب، بعض نے رمضان، بعض نے شوال کے مہینے میں معراج کا واقعہ ہونے کا ذکر کیا ہے،اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی تعیین کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں۔
یہ بات تو یقینی ہے کہ معراج ہوا ہے اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ قرآن میں اسکا ذکر ہے، البتہ حتمی طور پر معراج کی تاریخ متعین نہیں، اس لیے معراج کس سن میں ہوا یقینی طور پر کہنا ممکن نہیں
پہلا قول : ربیع الاول نبوت کا 12واں سال امام نوویؒ، ابن حجرؒ
دوسرا قول : رجب 11واں یا 12واں سال امام ابن عبدالبرؒ
تیسرا قول : رمضان 12واں سال امام ابن سعدؒ
چوتھا قول : شوال 10واں سال علامہ زرقانیؒ
ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
وَقِيلَ: كَانَتْ فِي رَبِيعٍ الْأَوَّلِ، وَقِيلَ فِي رَجَبٍ، وَقِيلَ فِي رَمَضَانَ، وَقِيلَ فِي شَوَّالٍ، وَقِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِسَنَةٍ
ترجمہ :اور کہا گیا ہے کہ واقعۂ معراج ربیع الاول میں پیش آیا، اور کہا گیا کہ رجب میں، اور کہا گیا کہ رمضان میں، اور کہا گیا کہ شوال میں، اور یہ بھی کہا گیا کہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا۔
(فتح الباري، ج 7، ص 203)
المواھب اللدنیةبالمنح المحمدیہ میں ہے :
“وأما ليلة الإسراء فلم يأت فى أرجحية العمل فيها حديث صحيح ولا ضعيف. ولذلك لم يعينها النبى- صلى الله عليه وسلم- لأصحابه، ولا عينها أحد من الصحابة بإسناد صحيح.”
(المقصد الخامس الاسرا والمعراج :ج2ص431 ط التوفيقية القاهرة)
ترجمہ: “جہاں تک شبِ اسراء کا تعلق ہے، تو اس میں عمل کی فضیلت کے بارے میں نہ کوئی صحیح حدیث آئی ہے اور نہ ہی ضعیف۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کے لیے اس رات کو متعین نہیں فرمایا، اور نہ ہی کسی صحابی نے اسے کسی صحیح سند کے ساتھ متعین کیا ہے۔”
فتح الباری میں ہے :
“فإن في ذلك اختلافا كثيرا يزيد على عشرة أقوال منها ما حكاه ابن الجوزي أنه كان قبل الهجرة بثمانية أشهر وقيل بستة أشهر۔۔۔وحكى ابن حزم أنه كان في رجب سنة اثنتي عشرة من النبوة۔۔۔ و قيل باحدعشرشهراجزم به ابراهيم الحربي حيث قال كان في ربيع الآخر قبل الهجرة بسنةو قیل بسنة و خمسة اشهرقاله السدي واخرجه من طريقه الطبري والبيهقي فعلي هذا كان في شوال أو في رمضان۔۔۔ومن ربيع الأول وبه جزم الواقدي۔۔۔وعند بن سعد عن ابن أبي سبرة أنه كان في رمضان قبل الهجرة بثمانية عشر شهرا وقيل كان في رجب حكاه ابن عبد البر وجزم به النووي.”
ترجمہ: “اس بارے میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، جو دس سے زائد اقوال تک پہنچتا ہے۔
ان میں سے ایک قول وہ ہے جو ابن جوزی نے ذکر کیا ہے کہ یہ ہجرت سے آٹھ ماہ پہلے ہوا، اور کہا گیا کہ چھ ماہ پہلے ہوا۔۔
ابن حزم نے ذکر کیا ہے کہ یہ واقعہ نبوت کے بارہویں سال رجب میں پیش آیا۔۔
ابراہیم الحربی نے جزم کے ساتھ کہا کہ یہ ہجرت سے ایک سال پہلے، ربیع الآخر میں ہوا۔
سدّی کا قول ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال اور پانچ ماہ پہلے پیش آیا، اور طبری اور بیہقی نے اس قول کو سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس قول کے مطابق یہ شوال یا رمضان میں ہوا۔۔
واقدی کا قول ہے کہ یہ ربیع الاول میں پیش آیا، اور ابن سعد نے ابن ابی سبرہ کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ یہ ہجرت سے اٹھارہ ماہ پہلے، رمضان میں ہوا
اور ابن عبد البر نے کہا کہ یہ رجب میں ہوا، اور امام نووی نے بھی اسی قول کو راجح قرار دیا ہے۔”
(كتاب المناقب باب المعراج :ج9:ص257 :ط دارالكتب العلميه)
فتاوی شامی میں ہے:
“(هي أي الصلاة الكاملة فرض عين على كل مكلف)بالإجماع. فرضت في الإسراء ليلة السبت سابع عشر رمضان قبل الهجرة بسنة ونصف
(قوله: فرضت في الإسراء إلخ) نقله أيضا الشيخ إسماعيل في الأحكام شرح درر الحكام، ثم قال: وحاصل ما ذكره الشيخ محمد البكري نفعنا الله تعالى ببركاته في الروضة الزهراء أنهم اختلفوا في أي سنة كان الإسراء بعد اتفاقهم على أنه كان بعد البعثة. فجزم جمع بأنه كان قبل الهجرة بسنة، ونقل ابن حزم الإجماع عليه، وقيل بخمس سنين، ثم اختلفوا في أي الشهور كان؟ فجزم ابن الأثير والنووي في فتاويه بأنه كان في ربيع الأول. قال النووي: ليلة سبع وعشرين، وقيل في ربيع الآخر، وقيل في رجب وجزم به النووي في الروضة تبعا للرافعي، وقيل في شوال. وجزم الحافظ عبد الغني المقدسي في سيرته بأنه ليلة السابع والعشرين من رجب، وعليه عمل أهل الأمصار. اهـ”.
(كتاب الصلاة،ج:1،ص:352،ط:دار الفكر-بيروت)
ترجمہ:فتاویٰ شامی میں ہے:
“(یہ یعنی کامل نماز ہر مکلف پر فرضِ عین ہے) اجماعاً۔ یہ واقعۂ اسراء کے موقع پر، ہجرت سے ایک سال چھ ماہ قبل، ہفتہ کی رات، 17 رمضان کو فرض کی گئی۔
(یہ جملہ: “فرضت في الإسراء” وغیرہ) شیخ اسماعیل نے بھی الأحكام شرح درر الحكام میں نقل کیا ہے، پھر فرمایا:
شیخ محمد البکری (اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی برکتوں سے نفع دے) نے الروضة الزهراء میں جو خلاصہ ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ:
علماء میں اختلاف ہے کہ واقعۂ اسراء کس سال پیش آیا؟ لیکن سب اس پر متفق ہیں کہ یہ بعثت کے بعد ہوا۔
کچھ علماء نے جزم کے ساتھ کہا کہ یہ ہجرت سے ایک سال قبل ہوا، اور ابن حزم نے اس قول پر اجماع نقل کیا ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ہجرت سے پانچ سال قبل ہوا۔
پھر اس بارے میں بھی اختلاف ہے کہ یہ کس مہینے میں پیش آیا؟
1. ابن الاثیر اور امام نووی نے اپنی فتاویٰ میں جزم کے ساتھ کہا کہ یہ ربیع الاول میں ہوا۔
• امام نووی کے بقول: یہ 27 ربیع الاول کی رات تھی۔
2. کچھ نے کہا: یہ ربیع الآخر میں ہوا۔
3. کچھ نے کہا: یہ رجب میں ہوا، اور امام نووی نے الروضہ میں اس قول کو رافعی کے اتباع میں راجح قرار دیا۔
4. کچھ نے کہا: یہ شوال میں ہوا۔
5. حافظ عبد الغنی مقدسی نے اپنی سیرت میں جزم کے ساتھ کہا کہ یہ رجب کی 27ویں شب میں ہوا۔
• اور اسی قول پر تمام شہروں کے عوام کا عمل ہے۔
بعض محدثین جیسے امام نوویؒ اور ابن حجر عسقلانیؒ نے 12ویں سال کا ذکر کیا ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے ایک فتوی میں ہے “بعض روایات سے (ہجرت سے) تین سال قبل ہونا ثابت ہے یہی راجح ہے۔”
مشہور سیرت نگار امام ابن سعد اور امام ابن اسحاق کے مطابق معراج نبوت کے 11ویں سال میں ہوا۔
علامہ ابن سعدؒ فرماتے ہیں:
وَكَانَ الْإِسْرَاءُ بَعْدَ الْبَعْثَةِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ سَنَةً
(الطبقات الکبریٰ، ج1، ص 215)
یعنی: “واقعۂ اسراء نبوت کے 11 سال بعد پیش آیا۔”
راجح ترین قول:
بریلوی مکتب فکر کے بڑے عالم مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:جسمانی معراج نبوت کے گیارہویں سال یعنی ہجرت سے دو سال پہلے اپنی (چچا زاد) ہمشیرہ امِّ ہانی کے گھر سے ستائیسویں رجب دوشنبہ کی شب کو ہوئی۔ (مواہب لدنیہ مع زرقانی، 2/70، 71، مراۃ المناجیح، 8/135)
زیادہ مستند قول یہی ہے کہ معراج نبوت کے 11ویں سال، 27 رجب کو پیش آیا۔
یہی قول امام ابن اسحاق، ابن سعد، اور جمہور سیرت نگاروں کا ہے، اور اس کی تائید تاریخی قرائن سے بھی ہوتی ہے۔
ستائیس رجب سے متعلق محدثین کے اقوال
ستائیس رجب، سن 11 نبوی کا قول زیادہ مشہور ہے اور جمہور محدثین نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ ذیل میں جمہور محدثین کے اقوال حوالوں کے ساتھ ذکر کیے جا رہے ہیں:
1. امام نووی (676ھ)
امام نووی رحمہ اللہ نے الروضہ اور فتاویٰ میں جزم کے ساتھ ذکر کیا کہ معراج 27 رجب کو ہوئی:
قال النووي: ليلة سبع وعشرين من رجب.
(فتاویٰ النووی، ص 18، الروضہ، ج 2، ص 263)
2. حافظ عبد الغنی المقدسی (600ھ)
حافظ عبد الغنی المقدسی رحمہ اللہ نے اپنی سیرت میں صراحت کے ساتھ ذکر کیا کہ معراج رجب کی 27ویں شب کو ہوئی، اور فرمایا:
“وجزم به الحافظ عبد الغني المقدسي في سيرته بأنه ليلة السابع والعشرين من رجب، وعليه عمل أهل الأمصار.”
(فتاویٰ شامی، ج 1، ص 430-431)
یعنی: “حافظ عبد الغنی المقدسی نے اپنی سیرت میں جزم کے ساتھ کہا کہ یہ 27 رجب کی رات کو ہوا، اور اسی پر تمام شہروں کے عوام کا عمل ہے۔”
3. حافظ ابن عبد البر (463ھ)
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے بھی معراج کے مہینے کے تعین میں “رجب” کا قول نقل کیا اور اس کی ترجیح دی:
“وقيل كان في رجب، حكاه ابن عبد البر.”
(فتح الباری، ج 7، ص 203)
4. امام بیہقی (458ھ)
امام بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں رجب کے قول کو زیادہ مضبوط قرار دیا:
“وكان ذلك في السابع والعشرين من رجب على المشهور.”
(دلائل النبوة، ج 2، ص 355)
5. علامہ زرقانی (1122ھ)
علامہ زرقانی رحمہ اللہ (شرح المواہب اللدنیہ) میں فرماتے ہیں:
“أكثر العلماء على أنه كان ليلة السابع والعشرين من رجب.”
(شرح المواہب اللدنیہ، ج 6، ص 400)
یعنی: “اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ یہ 27 رجب کی رات کو ہوا۔”
6. امام جلال الدین سیوطی (911ھ)
امام سیوطی رحمہ اللہ نے الخصائص الکبریٰ میں جمہور کا یہی موقف نقل کیا کہ معراج 27 رجب کو ہوئی:
“والمشهور أنه كان ليلة السابع والعشرين من شهر رجب.”
(الخصائص الکبری، ج 1، ص 158)
7. علامہ ابن کثیر (774ھ)
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ (البدایہ والنہایہ) میں فرماتے ہیں:
“والمشهور أنه كان في ليلة سبع وعشرين من رجب.”
(البدایہ والنہایہ، ج 3، ص 108)
یعنی: “یہی مشہور ہے کہ یہ 27 رجب کی رات میں ہوا۔”
سن ۱۱ نبوی سے متعلق اقوال
واقعۂ معراج کے سن کے تعین میں محدثین اور مؤرخین کے ہاں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں، لیکن سن 11 نبوت کا قول جمہور کے ہاں زیادہ مقبول ہے۔ ذیل میں محدثین کے اقوال حوالوں کے ساتھ ذکر کیے جا رہے ہیں جو معراج کے سن 11 نبوی میں ہونے کی تائید کرتے ہیں:
4. امام بیہقی (458ھ)
امام بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں ذکر کیا:
“والمشهور أنه كان قبل الهجرة بسنة ونصف.”
(دلائل النبوۃ، ج 2، ص 355)
یعنی: “یہ مشہور ہے کہ معراج ہجرت سے ڈیڑھ سال قبل ہوئی۔”
وضاحت: ہجرت ربیع الاول 13 نبوی میں ہوئی، اور اگر معراج ڈیڑھ سال پہلے ہوئی ہو، تو یہ رجب 11 نبوی ہی بنتا ہے۔
5. امام زرقانی (1122ھ)
علامہ زرقانی رحمہ اللہ (شرح المواہب اللدنیہ) میں فرماتے ہیں:
“والأكثرون على أنه كان قبل الهجرة بسنة أو سنة ونصف.”
(شرح المواہب اللدنیہ، ج 6، ص 400)
یعنی: “اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ معراج ہجرت سے ایک سال یا ڈیڑھ سال قبل ہوئی۔”
وضاحت: یہ قول بھی 11 نبوی کی تائید کرتا ہے، کیونکہ ہجرت 13 نبوی میں ہوئی، اور اگر ایک یا ڈیڑھ سال قبل ہو تو یہ 11 نبوی ہی بنتا ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں جو ترجیح دی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اور بیعت عقبہ سے پہلے معراج ہوئی اگر اس بات کو ترجیح دی جائے تو معراج نبوت کے دسویں سال کے بعد اور گیارہ نبوی میں سفر طائف سے واپسی کے بعد ہوئی ۔
چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:
“وَقَدْ جَزَمَ الْوَاقِدِيُّ وَغَيْرُهُ بِأَنَّ الْإِسْرَاءَ كَانَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِسَنَةٍ وَقِيلَ بِسَنَتَيْنِ وَقِيلَ بِثَلَاثٍ وَقِيلَ بِخَمْسٍ وَقِيلَ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَرَجَّحَ الْقُرْطُبِيُّ وَغَيْرُهُ أَنَّهُ كَانَ قَبْلَ مَوْتِ خَدِيجَةَ، وَرَجَّحَ الْمُوَافِقُونَ لِلْوَاقِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ بَعْدَهَا وَبَعْدَ مَجِيءِ الْإِسْلَامِ بِالْمَدِينَةِ وَلَكِنْ قَبْلَ الْعَقَبَةِ.”
(فتح الباری شرح صحیح بخاری، ج 7، ص 242، دار المعرفة، بیروت)
ترجمہ:
“واقدی اور دیگر محدثین نے قطعی طور پر کہا ہے کہ اسراء (معراج) ہجرت سے ایک سال قبل ہوئی، اور بعض نے دو سال، تین سال، پانچ سال یا اس سے بھی زیادہ کہا ہے۔ قرطبی اور دیگر محدثین نے اس قول کو ترجیح دی کہ معراج، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات سے پہلے ہوئی، جبکہ واقدی کے موافقین نے ترجیح دی کہ یہ ان کے انتقال کے بعد اور مدینہ میں اسلام کے پھیلنے کے بعد لیکن عقبہ کی بیعت سے پہلے ہوئی۔”
اسکے باوجود یقینی طور پر ستائیس رجب کو شب معراج قرار دینا درست نہیں ، اسلئے کہ اس سلسلے میں اور بھی اقوال ہیں
احسن الفتاویٰ میں ہے:
“27رجب کو یقینی طور پر شب معراج قرار دینا سراسر غلط ہے ،اس میں کئی قسم کے بہت سے اختلافات ہیں ،صرف تاریخ میں نہیں بلکہ مبداء میں ،سال میں ،مہینے میں ،تاریخ میں ،دن میں ہر ایک میں کئی قسم کے اختلافات ہیں ۔”
(تحقيق شب معراج :ج:10 ،ص:70، ط:الحجازکراچی)
ستائیس رجب کی بدعتیں
ستائیس رجب کی رات کو عوام معراج کی رات مانتی ہے اور اس دن خاص اہتمام کیا جاتا ہے کھانے پکانے کا نئے کپڑے پہننے کا گھروں کو سجانے سنوارنے کا، نعت ونظم کی محافل سجانے کا غرض ستائیس رجب کو شب معراج سمجھ کر کوئی اہتمام کرنا بدعت ہے،
اسی طرح اٹھائیس رجب کو ہزاری روزہ رکھا جاتا ہے ( یعنی ایسا روزہ جسکا ثواب ہزار روزوں کے برابر ملتا ہے) یہ بھی بدعت اور ناجائز ہے، اگر کوئی عمل اس دن سے متعلق ہوتا تو صحابہ کرام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتا، نیز شب معراج کے دن تاریخ سال سب یقینی طور پر معلوم اور محفوظ ہوتے ، جیسے کہ عید بقرہ عید کے دن تاریخ سب معلوم ہیں اسلئے کہ ان ایام میں ایک عبادت مشروع ہے،
اس دن کی تاریخ دن سال کا یقینی طور پر معلوم نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دن کسی خاص فضیلت کا حامل نہیں نہ اس دن کوئی عبادت مشروع ہے، شاید یہی مصلحت اس تاریخ کے بھلادئیے جانے سے متعلق ہو، نیز اگر یقینی طور پر معلوم بھی ہو کہ شب معراج کس تاریخ میں ہوئی تب بھی اس دن کوئی اہتمام کرنا جائز نہ ہوگا ، اسلئے کہ شریعت نقلی ہے اور ہم تک اس تاریخ میں کوئی عمل منقول ہوکر نہیں پہنچاہے، لہذا اس دن کوئی بھی اہتمام کرنا بدعت اور ناجائز ہے
ماحصل
واقعۂ معراج ایک عظیم معجزہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کی شان، اللہ کی قدرت، اور اسلام کی حقانیت کا ثبوت ہے۔ یہ واقعہ نماز کی اہمیت اور اللہ کی قدرت پر ایمان کا پیغام دیتا ہے
اس سفر کے وقوع سے متعلق نبوت کا 11واں سال راجح ہے، جیسا کہ امام ابن سعد اور ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے۔
• 27 رجب زیادہ مشہور تاریخ ہے، لیکن بعض نے رمضان یا دیگر مہینوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
• بعض روایات دیگر سالوں کا ذکر کرتی ہیں،
ستائیس رجب کو کوئی خاص عمل ثابت نہیں ، اس دن کوئی اہتمام کرنا بدعت ہے
معراج کا سب سے مشہور قول: 27 رجب، نبوت کے 11ویں سال۔
اللہ ہمیں اس واقعے کے حقیقی پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
No Comments