Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

بچوں کی نفسیات اور والدین کی ذمہ داریاں

بچوں کی نفسیات اور والدین کی ذمہ داریاں

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

بچے فطرتاً معصوم اور حساس ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا ہر پہلو والدین کے رویے سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر ان کی پرورش محبت، توجہ، اور حوصلہ افزائی کے ماحول میں ہو، تو وہ خوداعتمادی اور کامیابی کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں، لیکن اگر انہیں ہر وقت تنقید، بے توجہی، اور ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑے، تو وہ پیچھے رہ جاتے ہیں، احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اور بعض اوقات باغی بھی ہو جاتے ہیں۔

والدین کی معمولی غلطیاں بعض اوقات بچوں کی پوری زندگی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ آئیے، ان تمام وجوہات کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں جن کی بنا پر بچے کمزور، بزدل، یا نافرمان بن جاتے ہیں۔

1. بار بار کی تنقید اور حوصلہ شکنی

اگر بچے کسی کام میں تھوڑی سی بھی غلطی کریں اور والدین فوراً ان پر سخت تنقید کریں، تو ان کے اندر خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ کچھ بھی صحیح نہیں کر سکتے۔ اگر ہر غلطی پر انہیں جھڑک دیا جائے لیکن کسی اچھے کام پر ان کی تعریف نہ کی جائے، تو وہ مزید کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور ناکامی کا خوف ان کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔

2. حوصلہ افزائی کی کمی اور صرف غلطیوں پر توجہ

بعض والدین کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بچوں کی خوبیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور صرف خامیوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ جب بچہ اچھا کام کرتا ہے، تو والدین خاموش رہتے ہیں، لیکن اگر وہ غلطی کرے، تو فوراً ڈانٹ دیا جاتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے بچے اپنی محنت کا صلہ نہ ملنے پر دل برداشتہ ہو جاتے ہیں اور آگے بڑھنے کی ہمت کھو دیتے ہیں۔

3. بچوں کی پریشانیوں کو نہ سمجھنا

بچوں کو بھی زندگی میں مختلف مسائل اور پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے، لیکن جب والدین ان کی مشکلات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، تو بچے خود کو تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ بعض والدین بچوں کی غلطیوں پر سختی تو کرتے ہیں لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ وہ غلطی ہوئی کیوں تھی۔ اس رویے سے بچے اندر ہی اندر گھٹنے لگتے ہیں اور اپنی بات کسی سے کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

4. والدین اور بچوں کے درمیان خلا

اگر والدین اپنے اور بچوں کے درمیان ایک فاصلہ قائم کر لیں اور ان سے کھل کر بات نہ کریں، تو بچے اندرونی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی باتیں اپنے والدین سے شیئر نہیں کر پاتے، ان کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں، اور نتیجتاً وہ جذباتی طور پر والدین سے دور ہو جاتے ہیں۔

5. والدین کی بے توجہی

بعض بچے اس لیے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں کہ ان کے والدین انہیں وہ وقت اور توجہ نہیں دیتے جو ان کا حق ہے۔ اگر والدین بچوں کی دلچسپیوں، مشاغل، اور جذباتی ضروریات پر دھیان نہ دیں، تو وہ خود کو غیر اہم اور نظر انداز شدہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔

6. دوسروں کو اپنے بچوں پر ترجیح دینا

بعض والدین اپنی اولاد کو چھوڑ کر دوسروں کو یا دوسروں کے بچوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اگر بچے یہ محسوس کریں کہ ان کے والدین دوسروں کو ان پر فوقیت دیتے ہیں، تو وہ دل برداشتہ ہو جاتے ہیں اور ان کے اندر حسد، غصہ، اور احساسِ محرومی پیدا ہونے لگتا ہے۔

7. دادا دادی یا دیگر قریبی رشتہ داروں کا سرد رویہ

اگر بچے اپنے دادا، دادی، یا دیگر قریبی رشتہ داروں سے محبت اور اپنائیت نہ محسوس کریں، اگر ان کے بزرگ ان کے ساتھ کبھی مذاق نہ کریں، ان کا حال چال نہ پوچھیں، یا ان سے بے رخی برتیں، تو وہ خود کو خاندان میں اجنبی محسوس کرنے لگتے ہیں۔

8. والدین کا بچوں کی برائی دوسروں کے سامنے کرنا

بعض والدین اپنے بچوں کی خامیوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور انہیں بار بار ان کی غلطیاں یاد دلاتے ہیں۔ اس رویے سے بچوں میں شرمندگی اور احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے، اور وہ اپنی ذات پر یقین کھو بیٹھتے ہیں۔

9. گھر میں عزت اور محبت کی کمی

اگر بچوں کو ان کے اپنے گھر میں عزت اور محبت نہ ملے، اگر ان کے ساتھ عزت و احترام کا سلوک نہ کیا جائے، تو وہ یہ محبت اور عزت دوسروں میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ بعض اوقات والدین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ بچے کسی اور کے اثر میں آ سکتے ہیں۔

10. تعصب اور غیر مساوی سلوک

اگر والدین اپنے بچوں کے درمیان تعصب برتیں اور کسی ایک کو زیادہ اہمیت دیں جبکہ دوسرے کو کم درجہ دیں، تو وہ بچہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یا تو وہ والدین سے نفرت کرنے لگتا ہے یا پھر انتہائی دباؤ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

11. والدین کا بچوں کی بات کو سنجیدگی سے نہ لینا

اگر والدین بچوں کی باتوں کو توجہ سے نہ سنیں اور ان کے خیالات اور مشوروں کو غیر اہم سمجھیں، تو بچے اپنی قدر و قیمت کو کم سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی بات کی کوئی اہمیت نہیں، جس سے ان کے اندر اعتماد کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔

12. والدین کا جذباتی طور پر بچوں سے دور ہونا

بعض والدین اتنے مصروف ہوتے ہیں یا جان بوجھ کر اسطرح رویہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ جذباتی طور پر بچوں کے قریب نہیں ہوتے۔ بچے چاہ کر بھی اپنے دل کی بات والدین سے نہیں کر پاتے، اور ان کے جذبات اندر ہی اندر دبے رہ جاتے ہیں۔ یہ دباؤ بعد میں شدید نفسیاتی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

13. بچوں کو بے ادب یا گستاخ قرار دینا

جب بچے کوئی بات کہیں یا اپنی صفائی پیش کریں، تو انہیں فوراً بدتمیز، بے ادب، یا گستاخ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر بچے ہر وقت اس رویے کا سامنا کریں، تو وہ یا تو ضدی ہو جاتے ہیں یا پھر بالکل خاموش اور بے حس ہو جاتے ہیں۔

نتائج: ایک تباہ شدہ شخصیت

ان تمام رویوں کے نتیجے میں بچے:
• چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور ہر وقت غصہ کرنے لگتے ہیں۔
• احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔
• کسی کام میں دلچسپی نہیں لیتے اور ہر چیز سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
• والدین سے دور ہو جاتے ہیں اور ان سے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔
• ہر وقت ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتے ہیں کیونکہ بچپن سے انہیں سختی، تنقید، اور بے توجہی کا سامنا کرنا پڑا ہوتا ہے۔
• زندگی میں آگے بڑھنے سے گھبراتے ہیں اور ہر کام میں ناکامی کا خدشہ محسوس کرتے ہیں۔
• کسی اور کی محبت اور توجہ کے متلاشی بن جاتے ہیں، جو بعض اوقات انہیں غلط راستے پر لے جا سکتی ہے۔

والدین کے لیے نصیحت

اپنے بچوں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو آپ خود اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ انہیں عزت دیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں، ان کی پریشانیوں کو سمجھیں، اور ان کے جذبات کو اہمیت دیں۔ اگر آپ نے اپنے رویے کو درست نہ کیا، تو وہ وقت دور نہیں جب بچے والدین سے باغی ہو جائیں گے اور والدین کو اپنی قسمت پر پچھتانا پڑے گا، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی قسمت خود بگاڑ چکے ہوں گے۔

فافہم وتدبر!

No Comments

Leave a Reply