Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

ایک ایمان والے کی شان کیسی ہونی چاہئے

مفتی محمد عطاءاللہ سمیعی

ایک ایمان والے باوقار ،حلیم وبردبار ،متواضع ،منکسرالمزاج ،فضولیات، لہولعب اور لغویات سے دور رہنا چاہئے،
اسکی کسی حرکت سے اسلام شعائر اسلام علامات اسلام کسی کی بھی نہ تو بے ادبی ہو نہ ان پر آنچ آئے اور نہ انکی تضحیک وتمسخر ہو اور نہ کسی کو انکا موقع ملنا چاہئے،
ایک مومن کو دینی یا دنیوی نفع بخش امور میں لگے ہونا چاہئے چنانچہ مومنین کاملین کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ *الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاَتِهِمْ خَاشِعُونَ *وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ، مومنین کاملین کامیاب ہوگئے اور انکی صفات یہ ہیں کہ وہ خشوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لغویات سے پرہیز کرتے ہیں،

وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (63)
اللہ کے بندے ایسے ہوتے ہیں جب زمین ہر چلتے ہیں تو نرمی کے ساتھ اور جب کوئی جاہل ان سے مخاطب ہوتا ہے(لہوولعب اور بکواس کے مقصد سے) تو یہ اسکو سلام کرکے آگے نکل جاتے ہیں،
معلوم ہوا کہ فضولیات سے بچنا مومن کی ایک نرالی شان ہے، لیکن بڑا افسوس اور دکھ ہوتا کے جب ہم عام مومنین کے ساتھ بہت سے حفاظ قراء اور فارغین مدارس کو دیکھتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا وہاٹسپ فیسبک وغیرہ پر فضولیات میں پڑے ہوتے ہیں ، الٹی سیدھی ویڈیوز اور پوسٹ شیئر کرتے ہیں،
جان لیجئے آپکی پوسٹ آپکے لئے گناہ جاری بھی بن سکتی ہے اور صدقہ جاریہ بھی، اگر آپکی شیئر کی ہوئی پوسٹ غیرشرعی ہے، اسمیں اسلام قرآن یا شعائر اسلام کی تھوڑی سی بھی ہتک ہے یا اس سے بےحیائی پھیلتی ہے تو آپکے شیئر کرنے کے بعد جتنے لوگ اسکو آگے شیئر کرینگے یا جتنے لوگوں تک یہ گناہ پہنچے گا سب کا وبال آپ پر ہوگا، اسکے برعکس اگر آپ دینی ودنیوی مفید پوسٹ کرتے ہیں تو اسکو شیئر کرنے کے بعد جہاں تک وہ پہنچے گی جتنے لوگ بھی اسکو شیئر کرینگے یا اسپر عمل کرینگے سب کا ثواب آپکو ملیگا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ ، آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہیکہ وہ فضول چیزوں کو چھوڑدے،
بہت سے ایسے احمق ہوتے ہیں کہ انکو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ ویڈیو میں کیا ہے؟ کیا اسمیں قرآن یا اسلام کی توہین تو نہیں؟ بس انکو ہنسنے ہنسانے سے مطلب ہوتا ہے چنانچہ وہ ایسی ویڈیوزاور پوسٹ شیئر کرتے ہیں جنمیں قرآن کا یا اسلام کے کسی امر کا مذاق ہوتا ہے، ایک ویڈیو دیکھی جسمیں ABCD کو ایک شخص اسطرح پڑھ رہا تھا جیسے قاری قرآن کی تلاوت کرتا ہے ترتیل کے ساتھ، یہ قرآن کا مذاق اڑانا ہے، ایک ویڈیو دیکھی جسمیں ایک شخص عجیب عجیب منہ بناکر قرآن کی تلاوت کررہا تھااور سب لوگ ہنس رہے تھے، اب ان تمام چیزوں کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا اسکا تعلق تو دیکھنے سے ہے، صاف ظاہر ہورہا تھا کہ ان بدبختوں کا مقصد صرف ہنسنا ہنسانا ہے، قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ لوگ ہنسنے ہنسانے کی محفلیں لگائینگے، وہاٹسپ کے ایسے گروپس ،کامیڈی چینلز اور کامیڈی پروگرام، سب اسی میں شامل ہیں حالانکہ قرآن کہتا ہے فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا، کم ہنسا کرو زیادہ رویا کرو، زیادہ ہنسنے والوں کو اللہ نے ڈانٹ پلائی ہے فرمایا وتضحکون ولاتبکون ، تم ہنستے رہتے ہو روتے نہیں ہو، حدیث میں آتا ہے زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہوتا ہے، ہنسنا منع نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مزاح فرماتے تھے ہنستے تھے لیکن ایسا مزاح ہونا چاہئے جو شریعت کے دائرے میں ہو، نیز ہر وقت کاہنسی مذاق یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، کبھی کبھار احباب کی محفل لگی ہو اور جائز مزاح ہوجائے تو اس سے دل کو سکون ملتا ہے طبعیت ہشاش بشاش ہوجاتی ہے، لیکن ایسی ہنسی ایسا مذاق ایسی کامیڈی کہ کسی کی بے عزتی ہوجائے یا اسلام پر زد پڑے بالکل جائز نہیں
وماعلینا الاالبلاغ

No Comments

Leave a Reply