Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

اہل عرب کے فرض نمازوں کے بعد دعا نہ مانگنے سے متعلق اہم نکتہ

اہل عرب کے فرض نمازوں کے بعد دعا نہ مانگنے سے متعلق اہم نکتہ

مفتی محمد عطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

کل ۷رجب المرجب ۱۴۴۶ھ مطابق ۸ جنوری ۲۰۲۵ء والد صاحب حضرت مولانا سعیداللہ صاحب دامت برکاتہم اور چچا حضرت مولانا سعداللہ سمیعی القاسمی علیگ دامت برکاتہم کے ہمراہ اپنے پرانے وطن سٹھلہ ایک انتقال میں جانا ہوا، جنکا انتقال ہوا تھا وہ پہلے ہمارے پڑوسی تھےمدرسہ کے برابر میں انکا مکان ہے،
بہر حال انکے انتقال میں شرکت کی غرض سے سٹھلہ جانا ہوا، وہاں ہمارے ایک پرانے محب جناب حاجی عتیق اللہ خاں صاحب سے ملاقات ہوگئی،
وہ اپنے گھر لے گئے باتوں باتوں میں یہ بات نکل آئی کہ سٹھلہ میں کچھ لوگ غیرمقلدیت ذہن کے ہورہے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ فرض نمازوں کے بعد دعا کوئی چیز نہیں ہے، حدیث سے ثابت نہیں ہے اور عرب میں بھی فرض نمازوں کے بعد دعا نہیں مانگی جاتی،
والد صاحب نے ایک اہم نکتہ بیان فرمایا
“اولا تو احادیث میں فرض نمازوں کے بعد دعا کی اہمیت کو بیان کیا گیاہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے بھی تھے، دوسری بات یہ ہیکہ فرض نماز میں التحیات میں عربی زبان میں اپنی کوئی بھی دعا کرنا جائز ہے، اسی طرح سنن ونوافل کے سجدوں میں عربی میں دعا کرنا جائز ہے، اگر عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں دعا کرینگے تو نماز فاسد ہوجائیگی، تو اہل عرب کی زبان ہی عربی ہے وہ تشہد کی حالت میں اپنی تمام دعائیں کرلیتے ہیں، اسلئے انکو بعد میں دعا کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، رہ گئے عجمی لوگ تو وہ اکثر وبیشتر عربی سے ناواقف ہوتے ہیں یا اتنی رواں عربی نہیں ہوتی کہ نماز میں دعا کرسکیں، اسلئے اسکو چاہئے کہ نماز کے بعد اپنی زبان میں دعا کرے،اسی لئے حدیث میں ہے کہ “رات کے اخیر حصے اور فرض نمازوں کے بعد دعائیں قبول ہوتی ہیں”
لہذ ااہل عرب کو نہ دیکھو کہ وہ فرائض کے بعد دعا کرتے ہیں یا نہیں ؟ وہ تو فرائض کے التحیات میں اور سنن ونوافل کے سجدوں میں دعائیں کرلیتے ہیں، اسلئے فرائض کے بعد انکو دعا کی ضرورت نہیں رہتی، رہ گیا انڈیا کا بندہ تو اولا تو اسکو دعا کی توفیق نہیں ہوتی نماز کے علاوہ، اگر وہ فرائض کے بعد بھی دعا نہیں کریگا تو بتائیے کب کریگا؟ وہ تو بنا دعا کے ہی زندگی گزاردیگا جبکہ دعاؤں کی اتنی اہمیت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “دعا عبادت کا مغز ہے”
اسلئے عجمیوں کو فرائض کے بعد اپنی دعاکرنی چاہئے، اہل عرب کو نہیں دیکھنا چاہئے

فتاوی بنوریہ میں ہے کہ حضرت علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ نے ‘ فیض الباری’ میں اور محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نوراللہ مرقدہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھاہے کہ فرائض کے بعد موجودہ ہیئت کے مطابق اجتماعی دعا کرنا (یعنی تمام مقتدیان اپنی اپنی دعا کریں یہ اجتماعیت کی سی شکل بنجاتی ہے) سنت مستمرہ تو نہیں ہے، لیکن اس کی اصل ثابت ہے ؛ اس لیے یہ بدعت  نہیں ہے، اسے بدعت کہنا غلو ہے۔

مزید دلائل کے لیے”النفائس المرغوبة في الدعاء بعد المکتوبة “  مؤلفہ حضرت مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ کا مطالعہ فرمائیں۔

No Comments

Leave a Reply