Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

اُمّی

اُمّی

محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی

“ام “ کے معنی ماں کے ہیں اور “یاء” نسبتی ہے ترجمہ ہے “ماں والا”
جیسے میرٹھی میرٹھ والا
دیوبندی دیوبند والا
مظفرنگری مظفرنگر والا
پاکستانی پاکستان والا
امریکی امریکہ والا
ایسے ہی امی ماں والا
ماں کے پیٹ سے پیدا ہونیوالا بچہ دنیا کی ہر چیز سے ناآشنا ہوتا ہے
اگر اسکو کوئی کچھ سکھائے نہ تو وہ ایسا ہی ناآشنا رہیگا
اسی لئے جو شخص لکھنا پڑھنا نہ سیکھے اسکو امی کہاجاتا ہے یعنی یہ ایسا ہی دنیا میں تحصیل علم سے پاک ہے جیسا کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونیوالا بچہ ہوتا ہے
اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے اہل عرب کو امی کہا ہے
“ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم” اللہ نے امی لوگوں میں ان ہی میں کا رسول بھیجا( یعنی امی)

قرآن کریم نے اہل کتاب کے علاوہ دیگر عرب کو امی کہا ہے کیونکہ اہل کتاب (یہودونصاری) تو اپنی کتاب لکھتے پڑھتے تھے وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْأُمِّيِّینَ ءَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ ٱهْتَدَواْ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌ بِٱلْعِبَادِ،آپاہلِ کتاب اور امی لوگوں سے کہدیجئے کہ کیا تم (بھی) اسلام قبول کرتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کرلیں جب تو انہوں نے بھی سیدھا راستہ پالیا اور اگر یہ منہ پھیریں تو تمہارے اوپر تو صرف حکم پہنچا دینا لازم ہے اور اللہ بندوں کودیکھ رہا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی امی تھے یعنی آپ نے دنیا میں کسی انسان سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا تھا آپکا کوئی انسان استاذ نہ تھا، اللہ نے تعلیم وتربیت کے تمام اسباب بچپن میں ہی اٹھا لئے تھے تاکہ آئندہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ اسکے باپ دادا نے بچپن میں اسکو تعلیم دلائی ہے اسلئے ایسا کلام بنایا ہے اس نے، اللہ نے قصہ ہی ختم کردیا اور آپ بڑے ہونے تک اسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونیوالی صفت پر رہے یعنی کسی سے کچھ نہ سیکھا ،اور یہ آپکے لئے کمال کی بات ہے، کہ کسی سے کچھ نہ سیکھنے کے باوجود ایسا اونچا کلام پیش کیا کہ دنیا آج تک اسکی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے
آپ ایسا کلام فرماتے جسکو جوامع الکلم کہا جاتا ہے جسکے کئی کئی مطلب نکلتے ہیں،
آپکے امی ہونیکا مطلب یہ نہیں کہ آپ جاہل تھے نعوذباللہ بلکہ آپ ہی صحابہ کو بتاتے تھے کہ آیت کو کس طرح لکھنا ہے؟ آپ نے ہی انسانوں کو انسانیت سکھائی ہے آپ سے علی اختلاف الاقوال ایک مرتبہ صلح حدیبیہ کے موقع پر لکھنا بھی ثابت ہے،
آپ پڑھنا بھی جانتے تھے تبھی تو نزول وحی کے دوران آیتوں کو پڑھتے تھے تاکہ انکو یاد کرلیں پھر آیت نازل ہوئی “ لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ (16)
آپ (وحی ختم ہونے سے پہلے) قرآن پر اپنی زبان نہ ہلایا کیجیے تاکہ آپ اسے جلدی جلدی (یاد کر) لیں۔
اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٝ وَقُرْاٰنَهٝ (17)
بے شک اس کا جمع کرنا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔
فَاِذَا قَرَاْنَاهُ فَاتَّبِــعْ قُرْاٰنَهٝ (18)
پھر جب ہم اس کی قراءت کر چکیں تو اس کی قراءت کا اتباع کیجیے۔
ثُـمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٝ (19)
پھر بے شک اس کا کھول کر بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے۔
البتہ تحریر دیکھ کر پڑھنا آپ سے ثابت نہیں یہ بھی آپکا کمال ہی ہے کہ کچھ نہ سیکھنے اورنہ پڑھنے کے باوجود ایسا معجز کلام پیش کیا جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے انسانی کلام نہیں
آپ امام بھی اور قاری بھی تھے تبھی تو فرمایا فلیؤمکم قرائکم تمہاری امامت وہ کرے جو اچھا پڑھنے والا ہو
آپ ان پڑھ نہیں تھے اسلئے کہ ان پڑھ عالم یا معلم نہیں ہوتا کیونکہ آپ نے علم حاصل کرنیکی ترغیب دی بلکہ فرض قرار دیا “طلب العلم فریضة علی کل مسلم” علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے،اور آپ معلم بھی تھے “انما انا بعثت معلما” مجھے معلم (سکھانیوالا) بنا کر بھیجا گیا ہے،
آپ نے امامت کا حقدار عالم کو بتایا تو آپ ان پڑھ ہوتے ہوئے ایسا کیسے کہہ سکتے تھے؟ پتہ چلا کہ آپ ان پڑھ نہیں تھے ہاں یوں کہا جائیگا کہ آپ نے انسانوں سے کچھ نہیں سیکھا تھا ، بلکہ اللہ نے آپکو سکھایا
وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔ (4 : 113) (اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو وہ کچھ بتایا ہے جو تمہیں معلوم نہ تھا ‘ اور اس کا فضل تم پر بہت ہے،
چونکہ امی انسان کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھتا
اسلئے امی کا ترجمہ عام طور سے ان پڑھ کردیا جاتا ہے
اور مراد سب کی یہی ہوتی ہے جو اوپر بیان کی بس تعبیر کا فرق ہوجاتا ہے
بھلا جس نے سارے عالَم کو عالِم بنایا ہے وہ ان پڑھ کیسے ہوسکتا ہے
آپکا معلم اللہ تبارک وتعالی ہے

No Comments

Leave a Reply