Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

اصلاح معاشرہ وعلماء وتعلیم

آج بتاریخ یکم محرم الحرام ۱۴۴۴؁ھ بروز اتوار مدرسہ ضیاءالعلوم سیؤ ضلع ودیشہ میں علماء کرام کا خصوصی اجتماع ہوا جس میں درج ذیل مسائل پر غور کیا گیا اور ان کے مناسب حل تلاش کیے گئے:

طلبہ کی قلت/ بے رغبتی:گاؤں گاؤں جاکر علم دین اور علماء کی اہمیت بتائی جائے اور تشکیل کی جائے ۔

اندرون مدارس نظام کی اصلاح:الف: ناشتے و کھانے کا نظام معیاری ہو ۔ ب: تادیبی کارروائی میں زد و کوب سے احتراز کیا جائے ۔ ج: تعلیم دین کے ساتھ ساتھ دستی ہنر سکھایا جائے ۔ د: مدارس میں ذکر و اذکار اور نوافل کا اہتمام کیا جائے جس میں ذمہ داران و اساتذہ عملی دعوت دیں ۔

علماء کا اپنے مشائخ سے ربط:ذاتی طور پر اپنا اصلاحی تعلق کسی صاحب نسبت بزرگ سے ہو، اسی طرح بزرگوں کے مواعظ و حالات زندگی کا مطالعہ ہو؛ خصوصاً حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "اصلاحی نصاب" زیرمطالعہ رہے ۔

علماء کا عوام سے ربط کس طرح مضبوط کیا جائے ؟ہر شخص اپنے علاقے میں مرد حضرات میں اسی طرح کسی مناسب جگہ خواتین کو جمع کر کے خواتین میں بھی علماء کے وعظ کا نظم خود کریں یا علاقے کے علماء کو مدعو کریں بقدر سہولت پروگرام ہفتہ واری یا ماہانہ ہوسکتا ہے ۔

امت سے شرک و بدعات کو کیسے ختم کیا جائے ؟الف: علماء – دین کے معاملے میں تساہل پسندی سے کام نہ لیں ، بوقت ضرورت حق بات کہیں ۔ ب: امت کی اجتماعی خامیوں کو اجتماعی طور پر اور انفرادی غلطیوں کو انفرادی طور پر واضح کریں ، اس میں کسی مصلحت کو روا نہ رکھیں ۔ ج: حق و باطل کو واضح کرنے میں علمائے دیوبند کی واضح طور پر ترجمانی کریں ۔ د: عصری اداروں اور وہاں کے طلبہ و طالبات کے حوالے سے علماء اپنی کے اسکول قائم کرے اسی طرح علماء کے زیر نگرانی مختلف فنون کے کوچنگ سینٹر قائم ہوں ہ: عصری اداروں کے طلبہ و طالبات کے لیے پروگرام کریں اور حوصلہ افزائی کے لئے انعامات تقسیم کرے ایسے پروگراموں میں علاقے کے سرکردہ اہل وطن کو بھی مدعو کیا جا سکتا ہے ۔ و: خصوصاً بچوں کی بے راہ روی سے حفاظت کے لیے مساجد کے ائمہ کو ساتھ لیں، ان کی فیسوں کا نظم کریں، جس میں غریب بچوں کو زکوۃ کی مد بھی دی جاسکتی ہے ۔

تدریب المعلمین کی ضرورت:مدارس کے نظماء سے درخواست ہے کہ اپنے اساتذہ کو ادارے کی طرف سے تدریب کے لیے بھیجیں، اور گاہ بگاہ تجربہ کار معلمین کو مدعو کیا جاسکتا ہے ، اس کے لیے مختصر مدتی (جیسے سہ روزہ ، ہفت روزہ) دورے قائم کیے جا سکتے ہیں ۔ اسی طرح مدرسے کے طلباء کو تعلیمی اسفار پر لے جایا جائے جن میں علاقے کے اہم مدارس کی زیارت بھی شامل ہو سکتی ہے، اسی طرح تاریخی مقامات کی بھی ۔

No Comments

Leave a Reply