*مفتی تقی صاحب کا ایک واقعہ*
حضرت مفتی تقی عثمانی مدظلہ نے ایک بار ہمیں اپنا ایک واقعہ سنایا جو لوح قلب پر رقم ہوگیا فرمایا میری عمر سترہ سال تھی مدرس ہوئے ایک سال ہوا تھا اس دوران منکر حدیث غلام احمد پرویز اور ڈاکٹر فضل الرحمن کا فتنہ عروج پر تھا والد گرامی نے مجھے حکم دیا کہ ان کے افکار کا مدلل جائزہ لے کر ایک کتاب لکھیں جوانی کا جوش اور تحقیق کا تازہ ذوق تھا میں نے ہمارے عائلی مسائل کے نام سے غلام احمد پرویز پر مدلل نقد لکھا اور درمیان درمیان میں خوب جملے طنزیہ طور پر چست کیے جو ظاہر ہے جوش نقد میں بلادلیل ہی تھے جب کتاب مکمل ہوئی تو والد صاحب کو دکھائی حضرت نے فرمایا:میاں تقی اگر کتاب اپنے حلقے کے لیے لکھی ہے تو بڑی عمدہ ہے بڑی آہ واہ ہوگی اس پر اور تیرے متعلقین پڑھ کر خوب حظ اٹھائیں گے لیکن اگر یہ تنقید غلام احمد پرویز اور اس کے حلقے کے اصلاح کی نیت سے کی ہے تو یاد رکھیں اس کا رتی بھر فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ان کے دلوں میں تیرا بغض اور بڑھے گا یہ داعی کی نہیں قاضی اور حاکم کا طرز ہے تیرا مخاطب فرعون سے بڑا کافر نہیں اور تو موسی سے بڑا داعی نہیں خداوند نے موسی علیہ السلام کو بھی فرعون کے پاس بھیج کر قولا لہ قولا لینا نرم بلا طنز گفتگو کا حکم دیا تھا لہذا سوچ لو کہ جو نقد کیا ہے اسے کل اللہ کی عدالت میں ثابت کرنا ہوگا اگر تم دنیا کی عدالت میں ثابت کرنے طلب کیے گئے اور اس پر تیرے پاس گواہ نہ ہوئے تو یہاں ثابت نہیں کرسکتے کل اللہ کی عدالت یہ طنز و تشنیع کیسے ثابت کرو گے۔۔۔۔استاد جی اس پر آبدیدہ ہوئے ہمیں بھی ہلا کررکھ دیا فرمایا بھائیو میں نے وہ کتاب ادھیڑ دی اور نئے سرے سے سارے طنزیہ جملے نکال کر لکھی میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ سخت سے سخت مخالف کے خلاف کبھی طنزیہ طرز تخاطب اختیار نہ کرنا جو لکھنا اور جو کہنا اس نیت سے لکھنا اور کہنا کہ اگر کل مجھے یہ اللہ کی عدالت میں ثابت کرنا پڑجائے تو ثابت کر سکوں.
No Comments